Home » general

دھرتی کے خدا

1 February 2008 400 views No Comment

تم نے بھی سنے یہا ں کۓ گۓ کیسے کیسے وعدے

جھوٹی تھیں سبھی یہاں کہی گئیں خوشیوں کی جو باتیں

جھوٹے تھے یہاں سبھی کیۓ گۓ لوگوں سے جو وعدے

دھرتی کے خدا بنتے ہیں یہاں

انکو بھی ذرا کو ئی دے سزا

مہروں کی طرح کبھی چلا رہے ہوتے ہیں وہ ہم کو

پانی کی طرح کبھی بہا رہے ہوتے ہیں وہ ہم کو

وہ شمعوں کی طرح کبھی جلا رہے ہوتے ہیں وہ ہم کو

لمحوں کی طرح کبھی گوا رہے ہوتے ہیں وہ ہم کو

وہ ستمگر ہیں انہیں کیا جئیں یا مریں

ہو ستم جو بھی اسے ہم گوارہ کریں

وہ یہی چاہیں کہ دم ہم انہی کا بھریں

ہم جھکیں آگے انہی کےانہی سے ڈریں

آتے ہیں سبھی یہاں کبھی نہیں جائیں گے وہ جیسے

کرتے ہیں جفا کوئی سذا نہیں پائیں گے وہ جیسے

انسے یہ کہو چلے گۓ یہاں کیسے کیسے آ کے

Dharti Kay Khuda | Junoon – the band | Album: Azadi | Lyrics: Sabir Zafar

Related Posts with Thumbnails
1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading ... Loading ...

Leave your response!

Add your comment below, or trackback from your own site. You can also subscribe to these comments via RSS.

Be nice. Keep it clean. Stay on topic. No spam.

You can use these tags:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

This is a Gravatar-enabled weblog. To get your own globally-recognized-avatar, please register at Gravatar.